Blumify

Full transcript

भारत में यूरोपीय कंपनियों का आगमन || History of Modern India for #UPSC #modernhistory

परिचय और समुद्री मार्ग खोज के कारण

00:00ہلو فرینڈز اسٹری بیت کرشنا چینل میں ایک بار آپ کا فرصاگت ہے اور میں ہوں کرشنا ادھو فرنس ہماری بیبھن پرتیوں کی پرچھاوں میں بھارت کے اتحاس سے بہت سارے پرسناتے ہیں اور اس میں بسیستہ جو بھارت کا آدھنک اتحاس ہے اس کا جو ہے رول ہے بہت زیادہ دکھائی پڑتا ہے ہماری سبھی پرتیوگی پریچھاؤں میں تو آج ہم یہ بھارت کے آدھونی کتہاس کی پہلی کلاس ہے جس میں ہم بھارت میں یوروپی کمپنیوں کے آگمن کے سندرم میں کچھ چرچہ آپ کے ساتھ کریں گے تو فرنڈز جب ہم اتحاس

00:55سمدری مارگ کے خوز کرتا کون ہے؟ اگر بات کریں کہ بھارت کی سمدری مارگ کی خوز یوروپ سے بھارت کے سمدری مارگ کی خوز کس نے کی تھی؟ تو یہاں پہ بیکلپ ہیں واسکو ڈگاما کولمبس میگلن یا پھر پرنس ہنری تو آپ سبھی کو پتا ہوگا کہ اس کا اتر ہے واسکو ڈگلما یا ایک فیکٹ بیس کسٹن ہے جو میں بتانا چاہ رہا ہوں وہ چیز آپ سمجھئے یا ایک فیکٹ بیس کسٹن ہے جو تمام بارپرتیوگی پریچھاؤں میں پوچھا بھی گیا ہے آج بھی پوچھا جاتا ہے لیکن ورطمان سمیہ میں پریچھاؤں کا درشتکونڈ بدلتا جا رہا ہے اب وہاں پر فیکٹ بیس کسٹنوں کے ساتھ ساتھ آپ سے کانسپٹ پہ بھی سمجھ کو دیکھا جا رہا ہے پہ بیچار کریں یوروپیوں نے بھارت کیلئے سمدری مارک کو کھوجا۔ اس کے کارک کیا تھے یعنی اس کے پیچھے فیکٹرز کیا تھے جو اس چیز کو کرنے کے لیے انہیں پریڈت کر رہے تھے کہ یہاں پہ بکلپ ہیں

01:53بھارتی وستوں کی یوروپ میں بہت زیادہ مانگ تھی۔ ایک یہ قارن ہے یا پھر کس تت دنیا پر عثمانیوں کا نینتر ہو گیا تھا یا پھر یوروپ میں پنر جاگرن ہوا تھا آپ ان چیزوں پر وچار کریں یا پھر بکلپ ہیں اپروت سبھی تو اگر یہ ایک کانسپٹ بیس کچھ سن ہے اگر ہم اس پہ گور سے بیچار کریں تو ہم کسی ایک کارڑ کو صحیح نہیں ٹھہرا سکتے ہیں جب ہم اوپر والے پرسن میں دیکھ رہے تھے تو واسکوڈ گاما ایک ہینڈڈ پرسنٹ رائٹ کسچن تھا جس میں ہم دوسرے بکلپ پہ نہیں جا رہے تھے لیکن یہاں پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ سبھی بکلپ کچھ نہ کچھ رول جو ہے ادا کر رہے ہیں تو ہم پھر سو پرسط اوٹ کسے لے سکتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں جو ہشٹری کا پڑھنے کا طریقہ ہے اسے بدلنا ہوگا اور ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ورطمان سمیمے جو پریچھائیں ہو رہے ہیں اس میں فیکٹ کے ساتھ ساتھ کانسپٹ کو بھی سامل کیا جا رہا ہے اور آپ کی گہن سمجھ کو پرکھنے کا پریاس کریں۔

02:57کیا جا رہا ہے تو اس پرسند پہ اگر ہم بیچار کریں تو اگر ہم سمیں میں پیچھے جا کر دیکھتے ہیں تو بھارتی وستوں کی یوروپ میں بہت زیادہ مانگ تھی۔ یہ بلکل صحیح ہے بھارتی وستوں کی یوروپ میں بہت زیادہ مانگ تھی اور اسی مانگ کی وجہ سے وہ بھارت کو کھوج رہے تھی۔ ایک چیز ہو گئی دوسری ہے کسططنیہ پر عثمانیوں کا نینتر ہو گیا تھا یوروپ میں بھارت کی وستووں کی مانگ تھی تو کیا وہ وستویں یوروپ میں پہنچ نہیں رہی تھیں بلکل پہنچ رہی تھیں وہ اس تھل مارگ کے دورہ ترکیز سے ہوتے ہوئے کسططنیہ سے ہوتے ہوئے وہاں پہنچ رہی تھیں تو پھر انہیں سمدری مارگ کھوزنے کا کیا کارن تھا جب کشتت دنیا پر عثمانیوں کا نینترن ہو گیا ابھی ہم اس میں ڈیٹیل میں چرچہ کریں گے تو وہ بہت زیادہ کر لگاتے تھے بہت زیادہ بیودھانت پن کرتے تھے کسططنیہ پہ عثمانیوں کا نینترن بھی ایک کارن ہے جس کے وجہ سے یوروپی جو دیش تھے ان کو ایک نئے مارگ کی تلاس تھی اور انہوں نے پوری بھرسک کوشیس لگا دی کہ ہم بھارت کو ایک سمدری مارگ کے دوارا دھونڈ لیں۔ یہاں کارن بھی ایک بلکل صحیح کارن ہے۔ تیسرے کارن پہ بچار کریں یوروپ میں پنر جاگرن۔

04:15پنر جاگران کا مطلب ہوتا ہے وہاں پہ جو ہے بہت زیادہ آدھنکتہ آگئی تھے بیچاروں کی آدھنکتہ وہاں پہ لوگ ترکسیل ہو گئے تھے وہاں پہ لوگ بیگیانک سوچوں میں آگے بڑھ گئے تھے وہ لوگ جو ہے پنر جاگرن کے دورا یعنی اپنے مول کو اپنے پرانی چیزوں کو پرانی پرمپراؤں کو انہوں نے پریمارجت کیا تھا سدھار کیا تھا اور پھر سے وہ ایک سسکت جو ہے سنسکرت کو بکسیت کرنے میں آگے بڑھ رہے تھے جس میں بھگیان ترک ان سب چیزوں کا بہت مہتو تھا

05:00گولی کھوزوں کے لیے آگے چل کے مدد کرنے والے تھے اور اس وجہ سے بھی بھارت کو کھوزنے میں مدد ملی یہ بھی ایک کارک تھا کیونکہ وہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ بھارت نہیں آ پاتے تو اس پرکار سے اپروک سب ہی کارک ہیں جنہوں نے بھارت کے لیے سمدری مار کے کھوزنے کے لیے پریرد کیا اگر پنر جاگرن نہیں ہوا ہوتا تو کیا وہ یوروپ سے بھارت آنے میں سچم ہو پاتے نہیں ہو پاتے چاہے جتنی بڑی مجبوری ہو اگر سنسادھن نہیں ہوں گے تو آپ وہاں تک نہیں جا پائیں گے تو اس پرکار سے تینوں کارکوں نے کام کیا اور انتطاہ جو ہے یوروپیوں نے بھارت کو کھوج لیا بھارت کو کھوز لیا کا عرص ہے بھارت کو پنہ سمدری مارک کے دورہ کھوز لیا بھارت ان کے سنگیان میں پہلے سے ہی تھا۔ تو فرنس یہ ہم نے دو کشنز کے پرکار پر اس لئے چرچہ کی تاکہ اب آپ جو پڑھیں گے اس کو بلکل جو ہے ایک ڈیٹیل سمجھ کے ساتھ پڑھیں گے کوششن جو ہے اب نہ کیول فیکٹ بیس آ رہے ہیں بلکہ کانسپٹ کو سامل کرتے ہوئے پوچھے جا رہے ہیں تو چلیے ہم کچھ چرچہ کرتے ہیں

प्राचीन काल में भारत का व्यापार (लोथल)

06:09تو آئیے بیچار کرتے ہیں کہ بھارت کے دوسرے دیسوں کے ساتھ بیعپارک سمبند کب سے تھے اور کیا تھے تو ہم اگر پراشین کال کی بات کریں سب سے پہلے ہم پراشین کال کی بات کرتے ہیں تو پراشین کال میں ہم دیکھتے ہیں سندھ گھاٹی کی سبھتا میں گزرات میں ایک اسثان پرابت ہوا ہے لو تھل لو تھلو لوتھر ایک سندھ گھاٹی سبھیتہ کا ایک سائٹ ہے ایک ستھان ہے جو ورطمان سمیہ میں گجرات میں پڑتا ہے اور یا ایک بندرگاہ تھا یا کیا تھا ایک گودی وارا اس کو کہا جاتا ہے گودی وارا گودی وارا کا مطلب ہوتا ہے سی پورٹ بندرگاہ کیونکہ یہاں پر جو ساتھ ملے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں پر سمدری جہاجوں کا آنا جانا رہا ہوگا اور اس لوتھل اسطحان سے دوسرے دیسوں کی مہرے پرابت ہوئی ہیں دوسرے دیسوں کی مہرے پرابت ہونے کا سیدھا سا ارث ہے کہ یہاں کا سممند کنی دوسرے دیسوں سے رہا ہوگا تو یہاں پر جو ہے میسو پٹامیاں اور مصر

07:27ان سب سمبھتاؤں سے سمپرک کے ساتھ سے پرابت ہوتے ہیں یہاں پر جو مہرے پرابت ہوئی ہیں ان سے گیات ہوتا ہے کہ لوتھل کا سمپرک جو ہے وہ میسو پٹامیا کی سمبھتا سے مصر کی سمبھتا سے رہا تھا تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی جو چھت رہے اس کا سمپرک بہت پراجین کال سے ہی ادھر عرب اور افریقہ کے مہادیوب سے پہلے سے ہی بیعاپار ایک سممندھ رہے ہوں گے اگر آنا جانا تھا نشت طور سے بیعاپار بھی ہوتا رہا ہوگا تو پراشین کال سے ہی بھارت جو ہے بیدیشیوں کے سمپرک میں رہا ہے اب ہم بات کرتے ہیں مدھکال میں پراشین کال کے بعد میں جو ہے کیا بھارت کے بیعپار جو ہے یوروپ کے ساتھ ہوتے تھے یا نہیں ہوتے تھے کیونکہ اس ٹاپک میں ہم آج پڑھنے والے ہیں کہ بھارت میں یوروپی کمپنیوں کے آگمنٹ ہے تو اگر ہم یہ پڑھ رہے ہیں کہ بھارت میں یوروپ کی کمپنیاں آئیں

मध्यकालीन व्यापार मार्ग: स्थल और समुद्री

08:26تو کیا وہ پہلی بار آئی یا اس سے پہلے بھارت کے ساتھ کچھ بیع پار یوروپ کا ہوتا تھا یا نہیں ہوتا تھا تو پھر اگر ہوتا تھا تو کیا ایسے کارڑ ہو گئے کہ انہیں بھارت کو دوبارہ کھوجنا پڑا؟ اور اگر نہیں ہوتا تھا تو کیوں وہ بھارت آئے کیسے آئے ان چیزوں پر ہمیں بیچار کرنا ہوگا تو پہلی چیز ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کا سمپرک یوروپ سے کیسے تھا اگر اس تھر مارگ سے بات کریں تو اس تھر مارگ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت کے بعد یا پاکستان پڑھتا ہے اگر ہم اس تدکالین سمیہ کی بات کریں تو پاکستان اس میں بھارت کا ہی ایک حصہ رہتا تھا یعنی بھارت کی جو سیمائیں تھیں وہ افغانستان سے لگ رہی تھی سیدھے یہاں افغانستان سے تو بھارت کہ بعد اگر ورطمان ہی سینیریو میں ہم بات کریں تو اگر ہمیں یوروپ پہنچنا ہے تو ہمیں کون سے مارگ سے جانا ہوگا اس تھل بائی روڈ

09:27تو ہمیں پاکستان ہوتے ہوئے افغانستان اس کے بعد ایران ایران کے بعد ہم ایراک ہوتے ہوئے ترکی جا سکتے ہیں یا سیدھے ہم ترکی بھی جا سکتے ہیں الگ الگ مارگ ہوتے رہے ہوں گے تو یہاں پہ جو کرم میں دیس پڑھ رہے ہیں میں ان کے نام آپ کو بتاتا ہوں بھارت پاکستان افغانستان ایران ایراک اور ترکی سب سے لاشٹ میں جو دیس پڑھتا ہے وہ ہے ترکی اور ترکی ایسی ہے۔ وہ دیس ہے جو یوروپ کو اسپرس کرتا تھا یعنی वह योरोप में जाने का एक रास्ता था अगर हम तुर्की नहीं जाते तो हम योरोप में प्रवेस नहीं कर सकते थे और सिच्वेशन ये थी कि ये यूरोप है इसे हम यूरोप मालें यह मैं यहां की सिच्चिशन बता रहा हूँ, यह छेतर कैसा है। और इधर से इस तरह से

10:28इस तरह से

10:33तुर्की पहुंचते थे उसके बाद में यूरोप प्रवेस करने की बारी आती है तो यहाँ पे तुर्की का कुछ हिंसा अब वर्तमान समय में यूरूप में भी है लेकिन अभी उस पे हम बात नहीं करेंगे। तरकी पहुँचने के बाद में इधर ज़े देखें आप मैप अगर देखा होगा तो काला सागर है। और इधा जो है एक छोटा सा सागर यहां है उसको बोलते हैं मरमरा सागर। मरमरा झाल सागर छोटा सागर है

11:14पास में तो वहाँ पर आप देखेंगे एक तरफ काला सागर है दूसरी तरफ मरमरा सागर है और इसके बीच में एक जल संध है यानि पतला जल का रास्ता है उसको कहा जाता है बास औरस की जलसंधी, क्या नाम है बास औरस औरस जलसंधी आप ये सब चीजे नोट कर लीजेगा क्योंकि जो fact based question आते हैं कुश्चन मिक्स आते हैं, ऐसा नहीं है कि कोई 100% fact based ही होगा, या 100% कोई concept based ही होगा, जो प्रसन बनाता है examiner, उसमें कुछ विकल्प वो concept के रखता है, कुछ विकल्प वो fact के भी रख सकता है, और फिर उसमें mix करके वो options आप से पूछता है कि A, B सही है, B, C सही है, सभी सही है, इस तरह से. तो यहां पर situation क्या बन रही जो टर्की देश है टर्की देश के बाद में एक जलसंध है यानि छोटा सा जल का रास्ता है जिसको बास्पोरस की जलसंधी कहा जाता है और बास्पोरस की जलसंधी जो है काला सागर से मरमरा सागर को जोड़ती है उसके बाद में आप यूरोप में

12:21प्रवेस कर सकते हैं और यूरोप में वहाँ पे कौन सा देश है आप मैट में देख करके कमेंट करके बताए कि वहाँ पे मरमरा सागर को

12:38पिर देखते हैं आप क्या देखे लिखते हैं? तो ये सिच्च्चिशन थे यहादी यूरोप में अब हम बात करते हैं कि जब स्थल मार्व से ब्यापार हो रहा था यूरोप का और भारत का इस थल मार्ग से ये इसको हम रूट वन कह रहे हैं कि ये एक रास्ता ये था ब्यापार का दूसरा रास्ता क्या था दूसरा रास्ता ये था जो अरब के नियंतरण में था उसमें जो है यहां से समुद्री मार्ग से भी ब्यापार होता था भारत और अरब के बीच में समुद्री मार्ग से भी ब्यापार होता था और फारस की खाड़ी या लाल सागर से हो करके यह माल भूमद सागर में प्रवेज करता था यह भूमद सागर है। तब स्वेज नहर नहीं हुआ करती थी तो भूमद इस सागर में आने के बाद में आप देखेंगे यहां पर इटली देश हैं

13:36इटली देश में वो जहाज पहुंचते थी पहले अरब तक जहाज से आता था या फिर फारस की खाड़ी होकर के फिर कुछ रास्ता वो जमीन पे चलते थे। उसके बाद में भूमद सागर में फिर समुद्र से चलते थे और ये माल वो इटली जैसे देश जो यहाँ पर फ्रांस है इटली है यहाँ पर ग्रीस है जिसकी एथेंस है राजधानी यहाँ इटली है जिसकी रोम है राजधानी तो ये सब जो भूमद सागर से लगे हुए देश थे उन देशों को वो माल सप्लाई करते थे कौन? अराब के लो

14:35करने में स्थायक थे लेकिन

15:01निकल सकते हैं जैसे खैबर दर्रा है गोमल दर्रा है इस तरह से तो मार्ग बड़ा जटिल है। फिर भी व्यापार होता था दूसरे मार्ग में क्या बदता थी दूसरे मार्ग में अरब लोगों का बहुत हस्तच्छेप था और ये अपने मनमाने दाम पर यूरोप को वस्तिये प्रवाइड कराते थे लेकिन फिर भी ये ब्यापार चल रहा था फिर क्या हुआ अगर ब्यापार समचित तरीके से चल रहा था तो फिर ऐसा क्या हो गया जिसकी वज़े से यूरोप को समुद्री मार्ग से भारत को खोजने के लिए चलना पड़ा तो वो घटना घटित हुई 1453 में 1453 तक तो सब कुछ सही चल रहा था 1453 से कुछ घटनाएं ऐसी हुई जिसकी वजह से सारा सेनेरियों चेंज हो गया अब इसको समझने के लिए हम थोड़ा सा इतिहास में पीछे चलेंगे

रोमन साम्राज्य और बैजेंटाइन साम्राज्य का इतिहास

16:09इस डेट को 1453 तक आते हैं क्या है कहानी

16:30साम राजिए एक बहुत विसाल एक बहुत सक्तिसाली एक अमपायर एक बहुत बड़ा समराज जिसका नाम आज तक लिया जाता है रोमन अमपायर एक बहुत उचा नाम है रोम समराज हुआ करता था

16:55भागता।

17:03पढ़ते हैं उसके बाद में रोम सामराजी के दो भाग हो गए। दो भागों में रोम सामराज दिवाइड हो गया और जो पस्चिम की तरफ था उसे कहा गया पस्चिमी रोम। पस्चमी रूम और जो एसिया की तरफ था पूरब की तरफ था एसिया से लगा हुआ उसको कहा गया पूरबी रूम पूर्वी रोम सामराज जिन पूर्वी रोम और पस्चनी रोम तो जो पूर्वी रोम था जो तरकी से लग रहा था उसको एक और नाम दिया जाता है इसको कहते हैं बैजन टाइन एमपायर इसको क्या कहते हैं बैजनतिया हिंदी में क्या कहेंगे बैजनतिया समराज्य बेजंतियास आम राजी इंग्रिस में इसे बोलते हैं बैजन टाइन एमपायर।

18:46जो पस्चमी रोम है उसकी राजधानी थी रोम। रोम कहा है रोम आज भी जो है इतली की राजधानी है इतली की राजधानी रोम वही जो है पस्चिमी रोम की राजधानी थी। इतली में पढ़ती थी और जो पूर्वी रोम थी। पूर्वी रोम यानि बैजन्तिया समराज उसकी राजधानी थी कांस्टेन टिनोपल क्या थी इसको पहले में लिख रहा हूँ कांस 10 ती नो पल सही से उचारण इसको करें, कांस्टैन्टिनो पिली लिखा होता है, पिल पढ़ते हैं, कांस्टैन्टिनो पल, और इसको जो है, इधर अरब तरफ के लोग कहते थे कुस्तुन तुनिया। क्योंकि जैसे कि अंग्रेज भारत आये तो हर एक सब्द के दो-दो सब्द हो गए।

19:53कुनस तुन दुनिया ये क्या था ये कैपिटल y Bézantía Samarajki. ya ha pey Gracias. Ahora me voy a decir que aquí hay un estado. Europa, que es el que se expresó Basporas que se ha pasado en el lugar de la ciudad que se ha estado en el lugar de la ciudad.

20:26ahora si se ha dicho que si se ha llegado a Bharatía para el país, que se ha llegado a Pakistan, Afghanistan, Irán, Irak y Turquía, cuando se ha llegado a Turquía, que se ha llegado a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, La primera vez que estamos en la costantina. Constantinía Europa estaba en el caso de que se ha llegado a la ciudad de Bajantia. Bajantia Samarají estaba en el capital, un pueblo de la ciudad, donde se había un centro de la ciudad. en un santo de la palabra en el que se ha. Qustod Dunia ¿Qué ocurre en 1453? Aquí ustedes ustedes, ¿qué es lo que la Argentina era? La Argentina era capital de Bacantia, la Sarmarajía.

1453: कॉन्स्टेंटिनोपल पर उस्मानी कब्जा

21:301453 que la la que se ha hecho que aquí La gente de la gente de la gente de la gente de la gente. En este caso, en este caso, un nuevo pueblo que se ha hecho. Y el pueblo que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Uthmanía. que es un osmánio de la ciudad muy pequeño.

22:40se amrajo que osmánia se hará de. Usmaniyah Samarají que se hizo y y ayer Bajantiyah Samarají que se hizo. Cuando Bajantiyah Samarají que se hizo, ¿qué es que se hizo? Este es el que se hizo. Este es el que se hizo. que es la República de la Othmanía de la Antigua de la Antigua, Adiós. Ahora, ¿qué significa que el gobierno de Europa se va a la rastía?

24:02Los que tienen una rastía que hay, entonces ahí mismo la fuerza de que se ha llegando. Aquí también se ha hecho mucho más que ahora se lo sabía que la rastía de la rastía. Entonces, aquí se ha hecho mucho más. Ya, pues, los arabes de la pune de la niente en la que está, como ellos quieren, los que quieren, los que quieren.

24:52una nueva rastía se bharat jayen, entonces ahí va a par vía par ho se puede. Entonces, la pregunta es que ¿a esa bharatía que había? que lo que se puede hacer para que se pueda hacer ¡Itna parisram! Así que la gente tiene que tener un granito de la ciudad. ¿Qué es lo que se ha hecho? Entonces, ¿qué es lo que se ha hecho? ¿Qué es lo que se ha hecho? ¿Qué es lo que se ha hecho? ¿Qué es lo que se ha hecho?

25:56Estambul que Estambul,

26:09y quién es la que se trata Turquía que se traten. Ahora si estamos hablando de que Turquía y Estambul de Biela, ¿cuáles sonidos? Basporas que jalosandhi question Puechse jasakte hay Ahora hablamos de aquí que Bharatía se lo que fue que Europa se ha llevado a la la vida a Bharatía. ¿Qué es lo que se ha hecho en el caso de Europa? Entonces Europa, el que es muy bien, es muy bien que se puede hacer más problemas de la vida. En cuanto a la vida, el que se puede hacer más problemas de la vida, el que se puede hacer más problemas de la vida, el que se puede hacer más problemas de la vida. Un sub y los que se han bharatí chitr se han. Entonces, estos cosas en los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho, en los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho.

27:23entonces ahí el mensaje

27:42y ahora Esto nos ha dicho que Constantinopil es un bíjantía de la capital. Esto es un dominante de la ciudad. Aquí los ciudadanos de los ciudadanos, cuando aquí se han llegando.

28:55y los chicos han visto, los los que han visto, los que el printing press se le hizo. Que los que los que tienen un proceso que se han desgrado, se han desgrado, se han desgrado y un proceso de desgrado y un proceso de desgrado y un proceso de desgrado y un proceso de desgrado y un proceso que se han desgrado. cuando hablamos en el momento de hablar de que primero que el ¿Cómo fue el tiempo? en el momento de que se ha hecho, Mano Kendrittha en el momento en el momento en el mundo se trata de la humanidad. La vida de la vida, la vida de la vida, pero después de la vida, cuando la vida de la vida, Gracias. ¿Qué es lo que ha? ¿Qué es lo que se ha hecho? نس سے نیک کام ہی کرنا بند کر دیا منوشی نے سوچا کہ ہم کو کسی کام کا کریڈٹ ہی نہیں ملتا ہے تو وہ دھیرے دھیرے سب اسوار پر چھوڑتا چلا گیا سب کچھ اسوار کے بھروسے چھوڑتا چلا گیا اس سے کیا ہوا اس کی سوچ جو ہے دب گئی اور دھارمک جو چھتر تھے دھارمک جو کیندر تھے ان کا برچس انسان کے اوپر بڑھ گیا۔

पुनर्जागरण और पुर्तगाल-स्पेन की पहल

30:22یہی وہ سمیت تھا جب بیجنتیا سمراج کا پتن ہوا اس کے بعد وہاں سے بدوان لوگ بھاگ کر کے اپنے ساتھ وہ ساہت لے کر کے آئے جو پرانے سمی کا تھا اس ساہت کو لا کر کے انہوں نے پھر پرکاسط کیا اور تب ہوا پنر جاگرن پنر جاگرن کا مطلب ہوتا ہے جو سو گیا تھا ساہت جو گیا جو بھاؤنائیں جو سنسکرت سو گئی تھی اس کو پھر سے انہوں نے جگایا اور پھر جو ہے ایک ترک سکتی کا وکاس ہوا پھر جو ہے لوگ تارکی خوئے اور انہوں نے کسچن پٹ اپ کرنا شروع کر دیا کہ اسور کے اندر سماج ہے اگر اسور کی ستہ سب سے زیادہ بلسالی ہے تو پھر کسططنیا یعنی بیجنتیہ سمراج کا پتن کیوں ہو گیا کیونکہ وہاں پر تو دھارمک کے اندر تھا پھر وہ کیوں ہار گیا

31:23جانا یعنی پونر جاگرن ہو جانا اور پھر لوگوں کے اندر جو ہے مانوں کے اندرت بچاردھارا یعنی ترک سکتی کا بکاس بیگانک سوچ کا بکاس یہ سب چیزوں کا بکاس ہونا شروع ہوا جو پونر جاگرن کا پرنام تھا تو ان سب چیزوں سے کیا ہوا ان سب چیزوں سے لوگ پریڈت ہو رہے تھے اپنے آپ کو آگے بڑھانے کے لیے کیونکہ وہ اب یہ سوچنے لگے کہ مجھے جو کرنا ہے وہ مجھے کرنا ہے اس سور کو

31:53مجھے ملے گا تو اس پرکار پونر جاگرن نے بھی لوگوں کے اندر جو ہے تمام چیزوں کا بکاس کیا کہ وہ بھوگولک چھتروں میں جا کر کے نئی نئی خوجے کرنے لگے نئی نئی جلیان پوت دشا سوچک ینتر توپے یہ سب چیزوں کا عوضہ ہونے لگا اس سے کیا ہوا لوگ دور دور تک جا کر بیع پار کرنے کی سوچ رکھنے لگے تو اسی کرم میں یہاں پر دو دیس آپ دیکھیں گے یوروپ میں ایک ہے پرتگال اور پرتگال سے لگا ہوا ایک دیس اور دیکھیں گے آپ اس پین یہ دونوں دے سا اس چیز میں بہت اگرنی تھے کیوں کیونکہ جو یہاں کے ساسک تھے وہ بھوگولی کھوزوں کے لیے یعنی اس پرکار کے کاریوں کو لیے بہت زیادہ لوگوں کا پرسہن کرتے تھے سہیوگ کرتے تھے راجہ کی طرف سے جب بیعاپاریوں کو سہولیت دی جاتی ہے چھوٹ دی جاتی ہے سہیوگ دیا جاتا ہے تو وہ اور زیادہ کھل کر کے دور تک بیعاپار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لاب لینے کی کوشش کرتے ہیں تو جو پرتگال اور اسپین تھے

33:03انہوں نے انیک ابھیان چاروں طرف بھیجے کہ آپ جو ہے بھارت کا پتہ لگائیے بھارت کہاں ہے اس کو کھوجیے تاکہ ہم نئے مارگ سے سمودر مارگ سے بھارت کو پا سکیں اور بیع پار شروع کر سکیں تو اسپین نے ایک اپنا ابھیان بھیجا جو کس کے نترت میں تھا کولمبیس کے نترت میں اسپین کا ابھیان تھا کولمبس کے نطرت میں کولمبس کولمبس بھارت کی خوز کے لیے نکلا اسپین سے اور وہاں بھٹک گیا کیونکہ اس کے پاس بہت زیادہ جانکاریاں نہیں تھیں اس کے پاس پورب کی بہت کم جانکاریاں تھیں اسی لیے وہ بھٹک گیا اور وہ ادھر ہند مہا ساگر کی طرف نہ آ کر کے وہ اٹلانٹک کو پار کرتا چلا گیا اور وہ پہنچ گیا امریکہ وہ کہاں پہنچ گیا؟ امریکہ اس پرکار سے کولمبس جو ہے اسپین سے نکلا اور بھارت کی خوز کے لئے نکلا لیکن وہاں امریکہ پہنچ گیا اس پرکار سے امریکہ جو مہادیوک تھا وہ سنگیان میں آگیا ایوروب کے اور آگے چاہ کر کے انہوں نے امریکہ پہ بھی

प्रिंस हेनरी और बार्थोलोम्यू डियाज़ के अभियान

34:17یوروپ واسیو نے کبزہ کر لیا وہاں بھی جیسے بھارت میں کیا تھا وہ ایسے امریکہ میں بھی کیا اور اس کو بھی آپ بھی سوٹحاس میں پڑھتے ہیں کس پرکار سے امریکہ میں بھی بعد میں کرانتی ہوئی اور امریکہ نے بھی ستنترتا پرابت کی اس کو آپ بھی سوٹحاس میں پڑھتے ہیں اب ہم بات کرتے ہیں کہ بھارت کیسے آیا کون آیا تو ایک بے کتھا پرتگال کا ایک جو ہے یہاں پہ میں لکھوں گا پرتگال پرتگال کا جو پرنس تھا پرنس ہنری پرنس ہنری پرنس ہنری کو کہا جاتا تھا دا نیوی گیٹر اسے کیا کہتے تھے دا نیوی گیٹر نیوی گیٹر کا مطلب ہوتا ہے جو پتھ پردرسک ہوتا ہے سمدری مارگوں میں نیوگیٹ کرنا ہے یعنی نوکائن میں یہ جو ہے پتھ پردر سکتا ایسا اس لئے کہا جاتا تھا کیوں کہ اس نے جو ہے اپنے سنرچن میں انیک ابھیان افریقہ کے تٹ پہ کرائے تھے یہاں اس نے افریقہ کے تٹ میں انیک ابھیان بھیجے اور جس کے دوارہ اس نے افریقہ مہادیوب کے پسمی تٹ کا ایک مائب تیار کروایا۔ اس نے کیا کیا؟ افریقہ مہادیوب کا مائب۔

35:41جو افریقہ مہادیوب ہے یہ پرسناب سے الگ سے پوچھا جا سکتا ہے افریقہ مہادیوب کے پسچمی تٹکا پسمی یعنی اٹلانٹک مہا ساغر کی طرف والے پسمی تٹھ کا ایک نقصہ تیار کروایا۔ نقصہ تیار کروایا تھا کس نے؟ پرنس ہنری نے تو پرنس ہنری کا پوچھا جاتا ہے نام پرنس ہنری کو کیا کہا جاتا تھا پرنس ہنری کہاں کا پرنس تھا پرنس ہنری پورتگال کا تھا اور اس کو کہا جاتا تھا د نیوی گیٹر کیونکہ یہ سمدری یاتراؤں میں بہت رچی لیتا تھا اور اس کے ساہن سے ہی اس کے سرچھن میں ہی اس کے فائننس سے ہی انیک یاتری جو ہے افریقہ کے تٹوں کے کنارے کنارے گئے اور پھر وہ دھیرے پہلے کچھ دور تک گئے پھر اس کے سہارے پھر اگلا دوسری دور تک گیا اور اس طرح انیک ابھیانوں میں اس نے افریقہ مہادیوب کے پسیمی تٹ کا ایک میپ تیار کیا

36:47بارتھو لیومو ڈیاز ایک یاتری کا نام آپ اور یاد کریں گے یا پوائنٹ وائس آپ لکھتے رہیے گا جو میں بتا رہا ہوں اس کو پورا سمجھنے کی کوشش کریے ابھی بھارت میں جیدہ ترہب جب بھارت میں یوروپی کمپنیوں کا آگمن پڑھتے ہیں تو سیدھی آپ پڑھتے ہیں بریٹس کبائے تھے دچ کبائے تھے پرتگالی کبائے تھے انہوں نے اپنی فیکٹری کہاں لگائی؟ لیکن اب پرسنوں کا پردرس چینج ہو گیا ہے اگر آپ کو پوری سمجھ نہیں ہوگی تو پرسن اب اس طرح سے آتے ہیں کہ آخر کیوں آئے وہ کارن آپ سے پوچھتا ہے اور جب ریٹن اگزام میں آپ جاتے ہیں تو وہاں پہ یہ پرسند نہیں آئے گا کہ انگریج بھارت کیوں آئے سیدھے پرسن آئے گا کہ وہ کارن کیا تھے جن کی وجہ سے انگریج بھارت میں اپنا پرابوت اسطح پت کرنے میں سفل رہے۔ تو اب یہ تو کوئی ایک فیکٹ تو ہے نہیں کہ آپ نے بتا دیا کہ بس کو ڈگا مانے خوز کر لی تھی اس لئے انگریز آئے اور سفل ہو گئے ایسا کچھ نہیں ہے نا تو آپ کو سب سمجھ ہونی چاہیے کیونکہ پرسند کس پرکار سے پوچھا جائے گا اگر آپ سے ایک theme based پرسند پوچھ دیا جائے

37:48کہ یوروپ کی سمدری کھوزوں کہ یاتراؤں کے سندرح میں ایک ٹپڑی لکھئے کہ یوروپ نے جو سمدری خوزوں کے لئے اپنے ابھیان بھیجے ایسیا میں یا کہیں بھی ان پر ایک سو سبد میں کسٹن لکھنے کو آ جائے تو آپ کیا کریں گے پھر آپ چھوڑ دیں گے اسے تو اس طرح سے آپ کو پورا ایک کانسپٹ بنا کے چلنا پڑے گا پوری اسٹوری آپ کے دماغ میں ہونی چاہیے تو اس میں ایک بیک تکا میں بتا رہا تھا نام اور آتا ہے بارتھو لیومو ڈیاج بار تو بارتھو لیومو ڈیاز اس بکت کا نام کس سندر میں آتا ہے؟ اس بکت کا نام آتا ہے بارتھو لیومو ڈیاز کا نام کہ یہاں جو ہے افریقہ کے تٹ پر سب سے زیادہ دور تک پہنچا تھا جو یہ پرتگال سے ابھیان چلائے جا رہے تھے یہاں تٹ کا نقصہ بنایا جا رہا تھا تو اس میں جو ہے افریقہ کے نیچے یہاں پر ساؤتھ افریقہ دیس میں ایک کیپ ہے جس کو کہتے ہیں کیپ آف ورطمان اس کا نام ہے

38:56کیپ آف گوڈ ہوپ کیپ آف گڑ ہوپ اس کا نام رکھا گیا تھا تو کیپ آف گڑ ہوپ تک پہنچنے والا یاتری تھا بارتھو لیمو دیاج یہ جا کر کے یہاں تک پہنچا اس کے آگے ہند مہا ساغر تک پار کرنے کی چھمتہ ابھی تک کسی کے پاس نہیں تھی میکسمن دوری تک بارتھولی موڈیاز آیا اور یہاں سے وہ واپس پہنچا چلا گیا لیکن اس کا پرنام یہ ہوا کہ پرتگال کے پاس میں یوروپ کے کسی بھی دیش کی اپیچھا پرتگال کے پاس میں اس مہا ساغر اٹلانٹک مہا ساغر اور افریقہ کے بسے میں ادھتم جانکاری تھی اگر اسپین کے پاس اتنی جانکاری ہوتی تو کولمبس پہلے پہنچ گیا ہوتا لیکن کو لمباس پہلے نکلہ باسکو ڈگاما سے پہلے نکلا تھا اسپین سے کولمبس لیکن کولمبس نہیں پہنچ پایا کیونکہ اس کے پاس جانکاری کا ابھاو تھا لیکن पुर्तगाल ने रड़नीत के तहट काम किया और उसने धीरे धीरे इस छेतर को जाना, समझा और केप आफ गुड होप तक उसकी पहुंच बन गई

वास्को डिगामा का भारत आगमन (1498)

40:09उसके बाद में जो है 1497 में सभी डेट आप याद करने की कोशिस ना करें लेकिन जब आप इस कहानी को पढ़ेंगे तो धीरे धीरे आपको याद हो जाएंगी 1403 में ये घटना हुई थी देखिए 1403 में कुस्तित तुनिया वाली घटना हुई जब कुस्तित तुनिया पे उसमानी नियंतरण हो गया 1497 में यहां पुर्टगाल से वासको डिगामा निकलता है बार्टो लिपो डियाज को नोट कलिए आपने वासको डिगामा यहां यह निकलने की डेट है पहुंचने की डेट नहीं है वासको डिगामा 1497 में पुर्टगाल से चार जहाज ले करके निकलता है और उसी Cape of Good Hope तक वो उसी मैप के सहारे आता है जो मैप प्रिंस हिनरी ने बनवाया था वहां तक वो पहुंचता है Cape of Good Hope तक और इसको मिसंद दिया गया था कि आपको अब हिंद महासागर पार करना है यानि वह एक छेतर जहान अभी तक किसी भी यूरोपी देशने किसी भी यूरोपी देशने जहाजों ने प्रवेस नहीं किया था हजारों मीलों का एक अंधकार में छेतर जहान की जरा सीवी जानकारी नहीं है अपनी जान जोखिम मेंडाल करके वास्कोडिगामा को अब ये म

41:46अपमे साचार जहाजों का बेड़ा और देड़ सो से अधिक लोगों के साथ में ये निकल पड़ा था और Cape of Good Hope के बाद में इसे कहा जाता है ऐसा मिलता है इतिहास में एक पथप्रदर्सक मिल गया यहाँ पर अफरीका में इसे एक पत्ध प्रदर्सक मिल गया. इसे पत्ध प्रदर्सक इसले कहा गया क्योंकि हिंद महासागर की जानकारी अरब के लोगों को थी. अरब के लोग हिंद महासागर से भारत तक पहुंशते थे.

42:55अगर इस तरह से आपको कोई कह देता है कि हाँ अगर ये चेतर अगर आप पार करोगे तो आगे ए हिंदुस्तान है तो आपका मनोबल बढ़ जाएगा कि जब मैं अटलांटिक महासागर पार करके आ गया हुँ तो मैं हिंद महासागर को भी पार कर जाओंगा तो यहां से जो है इस पत्परदर्सक के बताय हुए तरीके से वास्कोडिगामा का दल जो है हिंद महासागर को पार कर गया और भारत के पस्चमी तट पे वास्कोडिगामा 1498 में पहुँच गया यहां पर यह तट कहलाता है माला बार तट यह जो तट है केरल वाला इसे कहते हैं माला बार माला बार तट इसका नाम आप याद रखेंगे जो भारत का पस्चमी तट है जहां पर केरल करनाटक वगरा ये है माला बार तठ और जो पूरब का तठ है इसे कहते हैं कॉरो मंडल तठ जो तमिलनाडू की तरफ तठ है इसे कहते हैं कोरो मंडल तट और जो केरल की तरफ तट है इसे कहते हैं माला बार तट तो वासकोडिगामा जो है वो पहुचा कोरो माला बार तट पे पहुचा और वहां पर जिस अस्थान पे पहुंचा उस अस्थान

44:41को कहते हैं जो keral में पड़ता है उसे कहते हैं वरतमा समय में उसे कोजी कोड कहा जाता है लेकिन उस समय उसे कहा जाता था काली कट

45:11चाहिए 1498 में 10 महीने इसको लगे 1498 में ये पहुंचता है काली कट केरल तो इब वास्कोड गामा 1497 में निकलता है केप आफ गुड होप होते हुए अब्दुल मनीक नाम के एक पथ प्रदर्शक के सहयोग से हिंद महासागर को पार करके वह काली कट नाम के बंदरगाह पे प जो है जमोरिन ये बी नोट अक ने आप ये भी पूछा जा सकता है जमोरिन नाम का एक सासक था जिसने इसका स्वागत किया यानि अपने राज में इसका भव्वे स्वागत किया कि आप यूरोप के सासको के द्वारा भेजे गए एक भ्यापारी हैं तो इस प्रकार से वास्कोडिगामा ने उरोप से भारत को जोड़ दिया, इस प्रकार से भारत और उरोप जोड़ गये समुद्री मारक से और आप दूसरे सब्दों में कह सकते हैं कि यहीं से यूरोप और भारत भिढ गएंगें, यहीं से यूरोप और भारत के बीच में जुडाओ भी शुरू हो गया और यही वो खटना थी जहां से भारत और एरोप के बीच में एक भिढ़नत भी इस्टार्ट हो गई

व्यापार में लाभ, दूसरा अभियान और पुर्तगाली प्रभुत्व

46:29और आगे चल करके यूरोप ने भारत पे किस प्रकार से अपना ब्यापारिक और उसके बाद राजनेतिक प्रभुत्ति स्थापित कर लिया यह आगे चल करके यही हमें पढ़ना है और यही हमारे भारत का मौडन हिस्ट्री में जो कुछ हम पढ़ेंगे उसका जो मूल है उसक 2-3 महिने 3 महिने थक वास्को डिगामा भारत में रुकता है और यहां से अनेक मसाले जड़ी बोटियां यह सब ले करके जाता है पूछा जाता है इसलिए मैं आपको बता रहा हूँ अनेक मसाले जड़ी बोटियां और भारती वस्तुयें

47:36کتنا ساٹھ گناہ پروفٹ کا پرسنتج جو ہے سارا خرچہ نکال کر کے اس کو ساٹھ گناہ منافع ہوتا ہے ان سب چیزوں نے یوروپ واسیوں کے دلوں میں ایک حلچل مچا دی کہ اتنا منافع ہے اور بھارت اس طرح سے بیعبار بھارت سے سمدری مارگ کے دوارہ کیا جا سکتا ہے سمبھو ہے تو 1490 کے بعد میں 1500 میں ایک پھر ابھیان آتا ہے پرتگال کا پیڈرو البریج یہ بھی نام آپ نوٹ کریں پیڈرو البریج پیڈرو البریج آتا ہے اس کے بعد واسکوڈگاما دوبارہ آتا ہے پندرہ سو دو میں پندرہ سو دو میں واسکوڈگاما دوبارہ آتا ہے اور واسکوڈگاما کو اس بار جب بھیجا گیا تو اس ادیس سے بھیجا گیا تھا کہ اب ہمیں بھارت پہ سمدری چھتر میں پورا قبضہ کرنا ہے پورتگالیوں کا پورا ایک دیس تھا کہ ہند مہا ساغر پہ عرب کا جو قبضہ ہے اسے ہمیں ہٹانا ہے اور ہند مہا ساغر پہ ہمیں پورا قبضہ کرنا ہے

48:53تو اپنے دوسرے ابھیان میں واسکو ڈگاما اپنے ساتھ یدھ کے لیے توپے بھی لے کر کے آیا تھا اور اس نے یہاں پر کے پاپ گوڈ ہوپ اور یہاں جو ہے بھارتی چھتر میں سمدر میں عرب کے جہاجوں پر حملہ بھی کیا کیونکہ یہاں کے جہاجوں پر اتنے ہتھیار نہیں ہوا کرتے تھے اور اپنے اس دم سے اپنے ان ہتھیاروں کے بل سے اس نے یہاں کے چھتر کے جو بیعپاری ہیں ان کو ڈڑا کر کے اپنا پربھت استحابت کر لیا تھا اور یہیں سے جو ہے پرتگالیوں کا ایک پربھت میں شٹارٹنگ ہو جاتی ہے اور آگے ہم اتحاس میں دیکھتے ہیں کہ دیڑھ سو سالوں تک انہوں نے ہند مہا ساغر پہ اپنا ایک چھتر راج بنائے رکھا اور تب تک یہ وہاں ڈٹے رہے جب تک کی برٹس یعنی انگلین یا یونائٹیڈ کنگڈم یا برٹین نے برٹین نے ان کو یہاں سے خدیڑ نہیں دیا لیکن دیڑ سو سالوں تک یہ ٹکے رہے اور اس اتحاس کو ہم آگے پڑھیں گے کس پرکار سے ان کی آپس میں

49:53لڑائیاں ہوئی اور کس پرکار سے انیک کمپنیاں بھارت میں آئی انیک کمپنیاں پرتگالیوں کے بعد میں سو سالوں تک تو کوئی نہیں آیا اکیلے ایک چھتر پرتگالی بیعپار کرتے رہے لیکن اس کے بعد لگ بھگ سو سالوں کے بعد میں دوسرے اندیسوں کی کمپنیاں بھی اسی مارگ سے ہو کر کے بھارت میں پرویس کی اور انہوں نے جو ہے بھارت کو پوری طریقے سے بیعپارک راجنیتک اور دھارمک سبھی ادیسوں کے ساتھ میں سبھی چھتروں میں بھارت کی سنسکرتی کو پربھاویت کیا

50:54اپنا ایک چھتر ساسن بھارت میں اس تھاپت کر لیا یہاں سب کیسے گھٹت ہوا یہی ہمارا سلیبس ہے کس پرکار سے ایک بیع پار کی گھٹنا نے ایک دیش کو گھٹت ہوا گلام بنا لیا یہ ہم پڑھیں گے پورے اتحاس میں تو آج کی کلاس ایک انٹروڈکسن کلاس تھی جس میں ہم نے آپ کو ایک بھومکہ دکھائی کہ ہماری کلاسز کس طرح سے ہوں گے ہم فیکٹ اور کانسپٹ کو پورا لے کر کے چلیں گے اگلی کلاس میں ہم پڑھیں گے کہ کس پرکار سے کون کون سی یوروپی کمپنیاں بھارت میں آئیں جس میں ہم پورتگال سے ہی سٹارٹ کریں گے پورتگال کو کس پرکار پورا ڈیٹیل میں ہم پڑھیں گے پورتگالی کمپنی کیسے آئی انہوں نے کیا کیا کہاں کہاں کو کھوٹھیاں بنائی کون کون سے بیع پار کیے اور بھارت کو کیا کیا انہوں نے دیا کیا کیا پرابہو ڈالا اور پھر کس پرکار سے انہی کمپنیوں سے یہ پچھڑ گئے اور ان کو واپس جانا پڑا تو ہم پرتگال کو پڑھیں گے دچ کو پڑھیں گے اور سب سے جو بسیسٹ ہے اسٹ انڈیا کمپنی بٹین آج کی کلاس میں اتنا ہی ملتے ہیں ہیسٹری کی اگلی کلاس میں تب تک کیلئے دھنیواد

52:01شکریہ