# भारत में यूरोपीय कंपनियों का आगमन || History of Modern India for #UPSC #modernhistory

*study with krishna* · https://www.youtube.com/watch?v=U0lepWludaA

## Summary

यह आधुनिक भारत के इतिहास की पहली क्लास है जिसमें भारत में यूरोपीय कंपनियों के आगमन की पृष्ठभूमि समझाई गई है। स्पीकर बताते हैं कि वास्को डिगामा ने 1498 में कालीकट पहुँचकर भारत का समुद्री मार्ग खोजा और इसके पीछे भारतीय वस्तुओं की यूरोप में माँग, 1453 में कुस्तुंतुनिया (कॉन्स्टेंटिनोपल) पर उस्मानी (ऑटोमन) नियंत्रण और यूरोप में पुनर्जागरण तीनों कारण मिलकर काम करते हैं। आगे की क्लास में पुर्तगालियों से शुरुआत करके विभिन्न यूरोपीय कंपनियों का विस्तार से अध्ययन किया जाएगा।

## Key points

- भारत का समुद्री मार्ग खोजने के तीनों कारण सही थे: भारतीय वस्तुओं की यूरोप में माँग, कुस्तुंतुनिया पर उस्मानी नियंत्रण और यूरोप में पुनर्जागरण।
- प्राचीन काल से ही लोथल (गुजरात) जैसी गोदीवाड़ा (समुद्री बंदरगाह) के माध्यम से मेसोपोटामिया और मिस्र से व्यापार होता था।
- 1453 में उस्मानी साम्राज्य ने बैजेंटाइन साम्राज्य की राजधानी कॉन्स्टेंटिनोपल पर कब्जा कर लिया, जिससे स्थल मार्ग बंद हो गया।
- पुर्तगाल के राजकुमार हेनरी (Prince Henry) को 'द नेविगेटर' कहा जाता था; उन्होंने अफ्रीका के पश्चिमी तट का नक्शा बनवाया।
- बार्थोलोम्यू डियाज़ अफ्रीका के 'केप ऑफ गुड होप' तक पहुँचने वाला पहला यात्री था।
- वास्को डिगामा 1497 में पुर्तगाल से निकला और 1498 में कालीकट (कोज़िकोड), केरल के मालाबार तट पर पहुँचा, जहाँ शासक ज़मोरिन ने स्वागत किया।
- भारत से मसालों और जड़ी-बूटियों के व्यापार पर साठ गुना लाभ मिलता था, जिसने यूरोपवासियों को उत्साहित किया।
- वास्को डिगामा के 1502 के दूसरे अभियान में तोपें लाई गईं और इसी से पुर्तगालियों का लगभग डेढ़ सौ वर्षों तक हिंद महासागर पर प्रभुत्व शुरू हुआ।
- स्पेन के कोलंबस भारत की खोज में निकले थे लेकिन भटककर अमेरिका पहुँच गए, क्योंकि उनके पास पूर्व के बारे में जानकारी नहीं थी।
- वर्तमान परीक्षाओं में केवल तथ्य आधारित नहीं बल्कि अवधारणा (Concept) आधारित प्रश्न पूछे जा रहे हैं, इसलिए पूरी कहानी और संदर्भ समझना जरूरी है।

## Notes

### भारत में यूरोपीय कंपनियों का आगमन - भूमिका

### समुद्री मार्ग की खोज के कारण
- भारत के समुद्री मार्ग की खोज का उत्तर 'वास्को डिगामा' है, जो एक तथ्य आधारित प्रश्न है।
- अवधारणा आधारित प्रश्न में तीनों कारण सही माने जाते हैं:
  1. भारतीय वस्तुओं की यूरोप में अधिक माँग
  2. कुस्तुंतुनिया (कॉन्स्टेंटिनोपल) पर उस्मानियों का नियंत्रण
  3. यूरोप में पुनर्जागरण (Renaissance)
- कोई एक कारण अकेले पर्याप्त नहीं; तीनों मिलकर यूरोपीयों को नए समुद्री मार्ग की खोज के लिए प्रेरित करते हैं।

### प्राचीन भारत का व्यापार
- सिंधु घाटी सभ्यता की साइट लोथल (गुजरात) एक गोदीवाड़ा (बंदरगाह) थी।
- यहाँ से प्राप्त मुहरों से मेसोपोटामिया और मिस्र की सभ्यताओं से संपर्क प्रमाणित होता है।

### मध्यकालीन व्यापार मार्ग
- स्थल मार्ग: भारत → पाकिस्तान → अफ़गानिस्तान → ईरान → इराक → तुर्की → यूरोप
- तुर्की में बास्पोरस जलसंधि काला सागर को मरमरा सागर से जोड़ती थी।
- समुद्री मार्ग: फ़ारस की खाड़ी या लाल सागर होकर भूमध्य सागर से इटली आदि देशों तक; अरब लोग इस मार्ग पर नियंत्रण रखते थे।

### 1453 की घटना
- पूर्वी रोम = बैजेंटाइन साम्राज्य; राजधानी कॉन्स्टेंटिनोपल (अरबी: कुस्तुंतुनिया)।
- 1453 में उस्मानी (ऑटोमन) साम्राज्य ने कॉन्स्टेंटिनोपल जीत लिया, स्थल मार्ग बाधित हुआ।

### अन्वेषणकर्ता
- **प्रिंस हेनरी** (पुर्तगाल): 'द नेविगेटर'; अफ्रीका के पश्चिमी तट का नक्शा बनवाया।
- **कोलंबस** (स्पेन): भारत खोजने निकला पर अमेरिका पहुँच गया।
- **बार्थोलोम्यू डियाज़**: 'केप ऑफ गुड होप' तक पहुँचने वाला यात्री।
- **वास्को डिगामा**: 1497 में पुर्तगाल से निकला, अब्दुल मनीक नामक पथप्रदर्शक की मदद से हिंद महासागर पार कर 1498 में कालीकट (कोज़िकोड, केरल) पहुँचा; ज़मोरिन शासक ने स्वागत किया।
- मालाबार तट = केरल/कर्नाटक ओर; कोरोमंडल तट = तमिलनाडु ओर।

### परिणाम
- मसालों-जड़ी बूटियों के व्यापार में साठ गुना लाभ।
- 1502 में वास्को डिगामा तोपों सहित लौटा; पुर्तगाली लगभग डेढ़ सौ वर्षों तक हिंद महासागर पर छाए रहे, जब तक ब्रिटेन ने उन्हें खदेड़ा।

## Transcript

[00:00] ہلو فرینڈز اسٹری بیت کرشنا چینل میں ایک بار آپ کا فرصاگت ہے اور میں ہوں کرشنا ادھو فرنس ہماری بیبھن پرتیوں کی پرچھاوں میں بھارت کے اتحاس سے بہت سارے پرسناتے ہیں اور اس میں بسیستہ جو بھارت کا آدھنک اتحاس ہے اس کا جو ہے رول ہے بہت زیادہ دکھائی پڑتا ہے ہماری سبھی پرتیوگی پریچھاؤں میں تو آج ہم یہ بھارت کے آدھونی کتہاس کی پہلی کلاس ہے جس میں ہم بھارت میں یوروپی کمپنیوں کے آگمن کے سندرم میں کچھ چرچہ آپ کے ساتھ کریں گے تو فرنڈز جب ہم اتحاس

[00:55] سمدری مارگ کے خوز کرتا کون ہے؟ اگر بات کریں کہ بھارت کی سمدری مارگ کی خوز یوروپ سے بھارت کے سمدری مارگ کی خوز کس نے کی تھی؟ تو یہاں پہ بیکلپ ہیں واسکو ڈگاما کولمبس میگلن یا پھر پرنس ہنری تو آپ سبھی کو پتا ہوگا کہ اس کا اتر ہے واسکو ڈگلما یا ایک فیکٹ بیس کسٹن ہے جو میں بتانا چاہ رہا ہوں وہ چیز آپ سمجھئے یا ایک فیکٹ بیس کسٹن ہے جو تمام بارپرتیوگی پریچھاؤں میں پوچھا بھی گیا ہے آج بھی پوچھا جاتا ہے لیکن ورطمان سمیہ میں پریچھاؤں کا درشتکونڈ بدلتا جا رہا ہے اب وہاں پر فیکٹ بیس کسٹنوں کے ساتھ ساتھ آپ سے کانسپٹ پہ بھی سمجھ کو دیکھا جا رہا ہے پہ بیچار کریں یوروپیوں نے بھارت کیلئے سمدری مارک کو کھوجا۔ اس کے کارک کیا تھے یعنی اس کے پیچھے فیکٹرز کیا تھے جو اس چیز کو کرنے کے لیے انہیں پریڈت کر رہے تھے کہ یہاں پہ بکلپ ہیں

[01:53] بھارتی وستوں کی یوروپ میں بہت زیادہ مانگ تھی۔ ایک یہ قارن ہے یا پھر کس تت دنیا پر عثمانیوں کا نینتر ہو گیا تھا یا پھر یوروپ میں پنر جاگرن ہوا تھا آپ ان چیزوں پر وچار کریں یا پھر بکلپ ہیں اپروت سبھی تو اگر یہ ایک کانسپٹ بیس کچھ سن ہے اگر ہم اس پہ گور سے بیچار کریں تو ہم کسی ایک کارڑ کو صحیح نہیں ٹھہرا سکتے ہیں جب ہم اوپر والے پرسن میں دیکھ رہے تھے تو واسکوڈ گاما ایک ہینڈڈ پرسنٹ رائٹ کسچن تھا جس میں ہم دوسرے بکلپ پہ نہیں جا رہے تھے لیکن یہاں پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ سبھی بکلپ کچھ نہ کچھ رول جو ہے ادا کر رہے ہیں تو ہم پھر سو پرسط اوٹ کسے لے سکتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں جو ہشٹری کا پڑھنے کا طریقہ ہے اسے بدلنا ہوگا اور ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ورطمان سمیمے جو پریچھائیں ہو رہے ہیں اس میں فیکٹ کے ساتھ ساتھ کانسپٹ کو بھی سامل کیا جا رہا ہے اور آپ کی گہن سمجھ کو پرکھنے کا پریاس کریں۔

[02:57] کیا جا رہا ہے تو اس پرسند پہ اگر ہم بیچار کریں تو اگر ہم سمیں میں پیچھے جا کر دیکھتے ہیں تو بھارتی وستوں کی یوروپ میں بہت زیادہ مانگ تھی۔ یہ بلکل صحیح ہے بھارتی وستوں کی یوروپ میں بہت زیادہ مانگ تھی اور اسی مانگ کی وجہ سے وہ بھارت کو کھوج رہے تھی۔ ایک چیز ہو گئی دوسری ہے کسططنیہ پر عثمانیوں کا نینتر ہو گیا تھا یوروپ میں بھارت کی وستووں کی مانگ تھی تو کیا وہ وستویں یوروپ میں پہنچ نہیں رہی تھیں بلکل پہنچ رہی تھیں وہ اس تھل مارگ کے دورہ ترکیز سے ہوتے ہوئے کسططنیہ سے ہوتے ہوئے وہاں پہنچ رہی تھیں تو پھر انہیں سمدری مارگ کھوزنے کا کیا کارن تھا جب کشتت دنیا پر عثمانیوں کا نینترن ہو گیا ابھی ہم اس میں ڈیٹیل میں چرچہ کریں گے تو وہ بہت زیادہ کر لگاتے تھے بہت زیادہ بیودھانت پن کرتے تھے کسططنیہ پہ عثمانیوں کا نینترن بھی ایک کارن ہے جس کے وجہ سے یوروپی جو دیش تھے ان کو ایک نئے مارگ کی تلاس تھی اور انہوں نے پوری بھرسک کوشیس لگا دی کہ ہم بھارت کو ایک سمدری مارگ کے دوارا دھونڈ لیں۔ یہاں کارن بھی ایک بلکل صحیح کارن ہے۔ تیسرے کارن پہ بچار کریں یوروپ میں پنر جاگرن۔

[04:15] پنر جاگران کا مطلب ہوتا ہے وہاں پہ جو ہے بہت زیادہ آدھنکتہ آگئی تھے بیچاروں کی آدھنکتہ وہاں پہ لوگ ترکسیل ہو گئے تھے وہاں پہ لوگ بیگیانک سوچوں میں آگے بڑھ گئے تھے وہ لوگ جو ہے پنر جاگرن کے دورا یعنی اپنے مول کو اپنے پرانی چیزوں کو پرانی پرمپراؤں کو انہوں نے پریمارجت کیا تھا سدھار کیا تھا اور پھر سے وہ ایک سسکت جو ہے سنسکرت کو بکسیت کرنے میں آگے بڑھ رہے تھے جس میں بھگیان ترک ان سب چیزوں کا بہت مہتو تھا

[05:00] گولی کھوزوں کے لیے آگے چل کے مدد کرنے والے تھے اور اس وجہ سے بھی بھارت کو کھوزنے میں مدد ملی یہ بھی ایک کارک تھا کیونکہ وہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ بھارت نہیں آ پاتے تو اس پرکار سے اپروک سب ہی کارک ہیں جنہوں نے بھارت کے لیے سمدری مار کے کھوزنے کے لیے پریرد کیا اگر پنر جاگرن نہیں ہوا ہوتا تو کیا وہ یوروپ سے بھارت آنے میں سچم ہو پاتے نہیں ہو پاتے چاہے جتنی بڑی مجبوری ہو اگر سنسادھن نہیں ہوں گے تو آپ وہاں تک نہیں جا پائیں گے تو اس پرکار سے تینوں کارکوں نے کام کیا اور انتطاہ جو ہے یوروپیوں نے بھارت کو کھوج لیا بھارت کو کھوز لیا کا عرص ہے بھارت کو پنہ سمدری مارک کے دورہ کھوز لیا بھارت ان کے سنگیان میں پہلے سے ہی تھا۔ تو فرنس یہ ہم نے دو کشنز کے پرکار پر اس لئے چرچہ کی تاکہ اب آپ جو پڑھیں گے اس کو بلکل جو ہے ایک ڈیٹیل سمجھ کے ساتھ پڑھیں گے کوششن جو ہے اب نہ کیول فیکٹ بیس آ رہے ہیں بلکہ کانسپٹ کو سامل کرتے ہوئے پوچھے جا رہے ہیں تو چلیے ہم کچھ چرچہ کرتے ہیں

[06:09] تو آئیے بیچار کرتے ہیں کہ بھارت کے دوسرے دیسوں کے ساتھ بیعپارک سمبند کب سے تھے اور کیا تھے تو ہم اگر پراشین کال کی بات کریں سب سے پہلے ہم پراشین کال کی بات کرتے ہیں تو پراشین کال میں ہم دیکھتے ہیں سندھ گھاٹی کی سبھتا میں گزرات میں ایک اسثان پرابت ہوا ہے لو تھل لو تھلو لوتھر ایک سندھ گھاٹی سبھیتہ کا ایک سائٹ ہے ایک ستھان ہے جو ورطمان سمیہ میں گجرات میں پڑتا ہے اور یا ایک بندرگاہ تھا یا کیا تھا ایک گودی وارا اس کو کہا جاتا ہے گودی وارا گودی وارا کا مطلب ہوتا ہے سی پورٹ بندرگاہ کیونکہ یہاں پر جو ساتھ ملے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں پر سمدری جہاجوں کا آنا جانا رہا ہوگا اور اس لوتھل اسطحان سے دوسرے دیسوں کی مہرے پرابت ہوئی ہیں دوسرے دیسوں کی مہرے پرابت ہونے کا سیدھا سا ارث ہے کہ یہاں کا سممند کنی دوسرے دیسوں سے رہا ہوگا تو یہاں پر جو ہے میسو پٹامیاں اور مصر

[07:27] ان سب سمبھتاؤں سے سمپرک کے ساتھ سے پرابت ہوتے ہیں یہاں پر جو مہرے پرابت ہوئی ہیں ان سے گیات ہوتا ہے کہ لوتھل کا سمپرک جو ہے وہ میسو پٹامیا کی سمبھتا سے مصر کی سمبھتا سے رہا تھا تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی جو چھت رہے اس کا سمپرک بہت پراجین کال سے ہی ادھر عرب اور افریقہ کے مہادیوب سے پہلے سے ہی بیعاپار ایک سممندھ رہے ہوں گے اگر آنا جانا تھا نشت طور سے بیعاپار بھی ہوتا رہا ہوگا تو پراشین کال سے ہی بھارت جو ہے بیدیشیوں کے سمپرک میں رہا ہے اب ہم بات کرتے ہیں مدھکال میں پراشین کال کے بعد میں جو ہے کیا بھارت کے بیعپار جو ہے یوروپ کے ساتھ ہوتے تھے یا نہیں ہوتے تھے کیونکہ اس ٹاپک میں ہم آج پڑھنے والے ہیں کہ بھارت میں یوروپی کمپنیوں کے آگمنٹ ہے تو اگر ہم یہ پڑھ رہے ہیں کہ بھارت میں یوروپ کی کمپنیاں آئیں

[08:26] تو کیا وہ پہلی بار آئی یا اس سے پہلے بھارت کے ساتھ کچھ بیع پار یوروپ کا ہوتا تھا یا نہیں ہوتا تھا تو پھر اگر ہوتا تھا تو کیا ایسے کارڑ ہو گئے کہ انہیں بھارت کو دوبارہ کھوجنا پڑا؟ اور اگر نہیں ہوتا تھا تو کیوں وہ بھارت آئے کیسے آئے ان چیزوں پر ہمیں بیچار کرنا ہوگا تو پہلی چیز ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کا سمپرک یوروپ سے کیسے تھا اگر اس تھر مارگ سے بات کریں تو اس تھر مارگ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت کے بعد یا پاکستان پڑھتا ہے اگر ہم اس تدکالین سمیہ کی بات کریں تو پاکستان اس میں بھارت کا ہی ایک حصہ رہتا تھا یعنی بھارت کی جو سیمائیں تھیں وہ افغانستان سے لگ رہی تھی سیدھے یہاں افغانستان سے تو بھارت کہ بعد اگر ورطمان ہی سینیریو میں ہم بات کریں تو اگر ہمیں یوروپ پہنچنا ہے تو ہمیں کون سے مارگ سے جانا ہوگا اس تھل بائی روڈ

[09:27] تو ہمیں پاکستان ہوتے ہوئے افغانستان اس کے بعد ایران ایران کے بعد ہم ایراک ہوتے ہوئے ترکی جا سکتے ہیں یا سیدھے ہم ترکی بھی جا سکتے ہیں الگ الگ مارگ ہوتے رہے ہوں گے تو یہاں پہ جو کرم میں دیس پڑھ رہے ہیں میں ان کے نام آپ کو بتاتا ہوں بھارت پاکستان افغانستان ایران ایراک اور ترکی سب سے لاشٹ میں جو دیس پڑھتا ہے وہ ہے ترکی اور ترکی ایسی ہے۔ وہ دیس ہے جو یوروپ کو اسپرس کرتا تھا یعنی वह योरोप में जाने का एक रास्ता था अगर हम तुर्की नहीं जाते तो हम योरोप में प्रवेस नहीं कर सकते थे और सिच्वेशन ये थी कि ये यूरोप है इसे हम यूरोप मालें यह मैं यहां की सिच्चिशन बता रहा हूँ, यह छेतर कैसा है। और इधर से इस तरह से

[10:28] इस तरह से

[10:33] तुर्की पहुंचते थे उसके बाद में यूरोप प्रवेस करने की बारी आती है तो यहाँ पे तुर्की का कुछ हिंसा अब वर्तमान समय में यूरूप में भी है लेकिन अभी उस पे हम बात नहीं करेंगे। तरकी पहुँचने के बाद में इधर ज़े देखें आप मैप अगर देखा होगा तो काला सागर है। और इधा जो है एक छोटा सा सागर यहां है उसको बोलते हैं मरमरा सागर। मरमरा झाल सागर छोटा सागर है

[11:14] पास में तो वहाँ पर आप देखेंगे एक तरफ काला सागर है दूसरी तरफ मरमरा सागर है और इसके बीच में एक जल संध है यानि पतला जल का रास्ता है उसको कहा जाता है बास औरस की जलसंधी, क्या नाम है बास औरस औरस जलसंधी आप ये सब चीजे नोट कर लीजेगा क्योंकि जो fact based question आते हैं कुश्चन मिक्स आते हैं, ऐसा नहीं है कि कोई 100% fact based ही होगा, या 100% कोई concept based ही होगा, जो प्रसन बनाता है examiner, उसमें कुछ विकल्प वो concept के रखता है, कुछ विकल्प वो fact के भी रख सकता है, और फिर उसमें mix करके वो options आप से पूछता है कि A, B सही है, B, C सही है, सभी सही है, इस तरह से. तो यहां पर situation क्या बन रही जो टर्की देश है टर्की देश के बाद में एक जलसंध है यानि छोटा सा जल का रास्ता है जिसको बास्पोरस की जलसंधी कहा जाता है और बास्पोरस की जलसंधी जो है काला सागर से मरमरा सागर को जोड़ती है उसके बाद में आप यूरोप में

[12:21] प्रवेस कर सकते हैं और यूरोप में वहाँ पे कौन सा देश है आप मैट में देख करके कमेंट करके बताए कि वहाँ पे मरमरा सागर को

[12:38] पिर देखते हैं आप क्या देखे लिखते हैं? तो ये सिच्च्चिशन थे यहादी यूरोप में अब हम बात करते हैं कि जब स्थल मार्व से ब्यापार हो रहा था यूरोप का और भारत का इस थल मार्ग से ये इसको हम रूट वन कह रहे हैं कि ये एक रास्ता ये था ब्यापार का दूसरा रास्ता क्या था दूसरा रास्ता ये था जो अरब के नियंतरण में था उसमें जो है यहां से समुद्री मार्ग से भी ब्यापार होता था भारत और अरब के बीच में समुद्री मार्ग से भी ब्यापार होता था और फारस की खाड़ी या लाल सागर से हो करके यह माल भूमद सागर में प्रवेज करता था यह भूमद सागर है। तब स्वेज नहर नहीं हुआ करती थी तो भूमद इस सागर में आने के बाद में आप देखेंगे यहां पर इटली देश हैं

[13:36] इटली देश में वो जहाज पहुंचते थी पहले अरब तक जहाज से आता था या फिर फारस की खाड़ी होकर के फिर कुछ रास्ता वो जमीन पे चलते थे। उसके बाद में भूमद सागर में फिर समुद्र से चलते थे और ये माल वो इटली जैसे देश जो यहाँ पर फ्रांस है इटली है यहाँ पर ग्रीस है जिसकी एथेंस है राजधानी यहाँ इटली है जिसकी रोम है राजधानी तो ये सब जो भूमद सागर से लगे हुए देश थे उन देशों को वो माल सप्लाई करते थे कौन? अराब के लो

[14:35] करने में स्थायक थे लेकिन

[15:01] निकल सकते हैं जैसे खैबर दर्रा है गोमल दर्रा है इस तरह से तो मार्ग बड़ा जटिल है। फिर भी व्यापार होता था दूसरे मार्ग में क्या बदता थी दूसरे मार्ग में अरब लोगों का बहुत हस्तच्छेप था और ये अपने मनमाने दाम पर यूरोप को वस्तिये प्रवाइड कराते थे लेकिन फिर भी ये ब्यापार चल रहा था फिर क्या हुआ अगर ब्यापार समचित तरीके से चल रहा था तो फिर ऐसा क्या हो गया जिसकी वज़े से यूरोप को समुद्री मार्ग से भारत को खोजने के लिए चलना पड़ा तो वो घटना घटित हुई 1453 में 1453 तक तो सब कुछ सही चल रहा था 1453 से कुछ घटनाएं ऐसी हुई जिसकी वजह से सारा सेनेरियों चेंज हो गया अब इसको समझने के लिए हम थोड़ा सा इतिहास में पीछे चलेंगे

[16:09] इस डेट को 1453 तक आते हैं क्या है कहानी

[16:30] साम राजिए एक बहुत विसाल एक बहुत सक्तिसाली एक अमपायर एक बहुत बड़ा समराज जिसका नाम आज तक लिया जाता है रोमन अमपायर एक बहुत उचा नाम है रोम समराज हुआ करता था

[16:55] भागता।

[17:03] पढ़ते हैं उसके बाद में रोम सामराजी के दो भाग हो गए। दो भागों में रोम सामराज दिवाइड हो गया और जो पस्चिम की तरफ था उसे कहा गया पस्चिमी रोम। पस्चमी रूम और जो एसिया की तरफ था पूरब की तरफ था एसिया से लगा हुआ उसको कहा गया पूरबी रूम पूर्वी रोम सामराज जिन पूर्वी रोम और पस्चनी रोम तो जो पूर्वी रोम था जो तरकी से लग रहा था उसको एक और नाम दिया जाता है इसको कहते हैं बैजन टाइन एमपायर इसको क्या कहते हैं बैजनतिया हिंदी में क्या कहेंगे बैजनतिया समराज्य बेजंतियास आम राजी इंग्रिस में इसे बोलते हैं बैजन टाइन एमपायर।

[18:46] जो पस्चमी रोम है उसकी राजधानी थी रोम। रोम कहा है रोम आज भी जो है इतली की राजधानी है इतली की राजधानी रोम वही जो है पस्चिमी रोम की राजधानी थी। इतली में पढ़ती थी और जो पूर्वी रोम थी। पूर्वी रोम यानि बैजन्तिया समराज उसकी राजधानी थी कांस्टेन टिनोपल क्या थी इसको पहले में लिख रहा हूँ कांस 10 ती नो पल सही से उचारण इसको करें, कांस्टैन्टिनो पिली लिखा होता है, पिल पढ़ते हैं, कांस्टैन्टिनो पल, और इसको जो है, इधर अरब तरफ के लोग कहते थे कुस्तुन तुनिया। क्योंकि जैसे कि अंग्रेज भारत आये तो हर एक सब्द के दो-दो सब्द हो गए।

[19:53] कुनस तुन दुनिया ये क्या था ये कैपिटल y Bézantía Samarajki. ya ha pey Gracias. Ahora me voy a decir que aquí hay un estado. Europa, que es el que se expresó Basporas que se ha pasado en el lugar de la ciudad que se ha estado en el lugar de la ciudad.

[20:26] ahora si se ha dicho que si se ha llegado a Bharatía para el país, que se ha llegado a Pakistan, Afghanistan, Irán, Irak y Turquía, cuando se ha llegado a Turquía, que se ha llegado a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, que se llegue a Turquía, La primera vez que estamos en la costantina. Constantinía Europa estaba en el caso de que se ha llegado a la ciudad de Bajantia. Bajantia Samarají estaba en el capital, un pueblo de la ciudad, donde se había un centro de la ciudad. en un santo de la palabra en el que se ha. Qustod Dunia ¿Qué ocurre en 1453? Aquí ustedes ustedes, ¿qué es lo que la Argentina era? La Argentina era capital de Bacantia, la Sarmarajía.

[21:30] 1453 que la la que se ha hecho que aquí La gente de la gente de la gente de la gente de la gente. En este caso, en este caso, un nuevo pueblo que se ha hecho. Y el pueblo que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Es que se ha hecho. Uthmanía. que es un osmánio de la ciudad muy pequeño.

[22:40] se amrajo que osmánia se hará de. Usmaniyah Samarají que se hizo y y ayer Bajantiyah Samarají que se hizo. Cuando Bajantiyah Samarají que se hizo, ¿qué es que se hizo? Este es el que se hizo. Este es el que se hizo. que es la República de la Othmanía de la Antigua de la Antigua, Adiós. Ahora, ¿qué significa que el gobierno de Europa se va a la rastía?

[24:02] Los que tienen una rastía que hay, entonces ahí mismo la fuerza de que se ha llegando. Aquí también se ha hecho mucho más que ahora se lo sabía que la rastía de la rastía. Entonces, aquí se ha hecho mucho más. Ya, pues, los arabes de la pune de la niente en la que está, como ellos quieren, los que quieren, los que quieren.

[24:52] una nueva rastía se bharat jayen, entonces ahí va a par vía par ho se puede. Entonces, la pregunta es que ¿a esa bharatía que había? que lo que se puede hacer para que se pueda hacer ¡Itna parisram! Así que la gente tiene que tener un granito de la ciudad. ¿Qué es lo que se ha hecho? Entonces, ¿qué es lo que se ha hecho? ¿Qué es lo que se ha hecho? ¿Qué es lo que se ha hecho? ¿Qué es lo que se ha hecho?

[25:56] Estambul que Estambul,

[26:09] y quién es la que se trata Turquía que se traten. Ahora si estamos hablando de que Turquía y Estambul de Biela, ¿cuáles sonidos? Basporas que jalosandhi question Puechse jasakte hay Ahora hablamos de aquí que Bharatía se lo que fue que Europa se ha llevado a la la vida a Bharatía. ¿Qué es lo que se ha hecho en el caso de Europa? Entonces Europa, el que es muy bien, es muy bien que se puede hacer más problemas de la vida. En cuanto a la vida, el que se puede hacer más problemas de la vida, el que se puede hacer más problemas de la vida, el que se puede hacer más problemas de la vida. Un sub y los que se han bharatí chitr se han. Entonces, estos cosas en los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho, en los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho, los que se han hecho.

[27:23] entonces ahí el mensaje

[27:42] y ahora Esto nos ha dicho que Constantinopil es un bíjantía de la capital. Esto es un dominante de la ciudad. Aquí los ciudadanos de los ciudadanos, cuando aquí se han llegando.

[28:55] y los chicos han visto, los los que han visto, los que el printing press se le hizo. Que los que los que tienen un proceso que se han desgrado, se han desgrado, se han desgrado y un proceso de desgrado y un proceso de desgrado y un proceso de desgrado y un proceso de desgrado y un proceso que se han desgrado. cuando hablamos en el momento de hablar de que primero que el ¿Cómo fue el tiempo? en el momento de que se ha hecho, Mano Kendrittha en el momento en el momento en el mundo se trata de la humanidad. La vida de la vida, la vida de la vida, pero después de la vida, cuando la vida de la vida, Gracias. ¿Qué es lo que ha? ¿Qué es lo que se ha hecho? نس سے نیک کام ہی کرنا بند کر دیا منوشی نے سوچا کہ ہم کو کسی کام کا کریڈٹ ہی نہیں ملتا ہے تو وہ دھیرے دھیرے سب اسوار پر چھوڑتا چلا گیا سب کچھ اسوار کے بھروسے چھوڑتا چلا گیا اس سے کیا ہوا اس کی سوچ جو ہے دب گئی اور دھارمک جو چھتر تھے دھارمک جو کیندر تھے ان کا برچس انسان کے اوپر بڑھ گیا۔

[30:22] یہی وہ سمیت تھا جب بیجنتیا سمراج کا پتن ہوا اس کے بعد وہاں سے بدوان لوگ بھاگ کر کے اپنے ساتھ وہ ساہت لے کر کے آئے جو پرانے سمی کا تھا اس ساہت کو لا کر کے انہوں نے پھر پرکاسط کیا اور تب ہوا پنر جاگرن پنر جاگرن کا مطلب ہوتا ہے جو سو گیا تھا ساہت جو گیا جو بھاؤنائیں جو سنسکرت سو گئی تھی اس کو پھر سے انہوں نے جگایا اور پھر جو ہے ایک ترک سکتی کا وکاس ہوا پھر جو ہے لوگ تارکی خوئے اور انہوں نے کسچن پٹ اپ کرنا شروع کر دیا کہ اسور کے اندر سماج ہے اگر اسور کی ستہ سب سے زیادہ بلسالی ہے تو پھر کسططنیا یعنی بیجنتیہ سمراج کا پتن کیوں ہو گیا کیونکہ وہاں پر تو دھارمک کے اندر تھا پھر وہ کیوں ہار گیا

[31:23] جانا یعنی پونر جاگرن ہو جانا اور پھر لوگوں کے اندر جو ہے مانوں کے اندرت بچاردھارا یعنی ترک سکتی کا بکاس بیگانک سوچ کا بکاس یہ سب چیزوں کا بکاس ہونا شروع ہوا جو پونر جاگرن کا پرنام تھا تو ان سب چیزوں سے کیا ہوا ان سب چیزوں سے لوگ پریڈت ہو رہے تھے اپنے آپ کو آگے بڑھانے کے لیے کیونکہ وہ اب یہ سوچنے لگے کہ مجھے جو کرنا ہے وہ مجھے کرنا ہے اس سور کو

[31:53] مجھے ملے گا تو اس پرکار پونر جاگرن نے بھی لوگوں کے اندر جو ہے تمام چیزوں کا بکاس کیا کہ وہ بھوگولک چھتروں میں جا کر کے نئی نئی خوجے کرنے لگے نئی نئی جلیان پوت دشا سوچک ینتر توپے یہ سب چیزوں کا عوضہ ہونے لگا اس سے کیا ہوا لوگ دور دور تک جا کر بیع پار کرنے کی سوچ رکھنے لگے تو اسی کرم میں یہاں پر دو دیس آپ دیکھیں گے یوروپ میں ایک ہے پرتگال اور پرتگال سے لگا ہوا ایک دیس اور دیکھیں گے آپ اس پین یہ دونوں دے سا اس چیز میں بہت اگرنی تھے کیوں کیونکہ جو یہاں کے ساسک تھے وہ بھوگولی کھوزوں کے لیے یعنی اس پرکار کے کاریوں کو لیے بہت زیادہ لوگوں کا پرسہن کرتے تھے سہیوگ کرتے تھے راجہ کی طرف سے جب بیعاپاریوں کو سہولیت دی جاتی ہے چھوٹ دی جاتی ہے سہیوگ دیا جاتا ہے تو وہ اور زیادہ کھل کر کے دور تک بیعاپار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لاب لینے کی کوشش کرتے ہیں تو جو پرتگال اور اسپین تھے

[33:03] انہوں نے انیک ابھیان چاروں طرف بھیجے کہ آپ جو ہے بھارت کا پتہ لگائیے بھارت کہاں ہے اس کو کھوجیے تاکہ ہم نئے مارگ سے سمودر مارگ سے بھارت کو پا سکیں اور بیع پار شروع کر سکیں تو اسپین نے ایک اپنا ابھیان بھیجا جو کس کے نترت میں تھا کولمبیس کے نترت میں اسپین کا ابھیان تھا کولمبس کے نطرت میں کولمبس کولمبس بھارت کی خوز کے لیے نکلا اسپین سے اور وہاں بھٹک گیا کیونکہ اس کے پاس بہت زیادہ جانکاریاں نہیں تھیں اس کے پاس پورب کی بہت کم جانکاریاں تھیں اسی لیے وہ بھٹک گیا اور وہ ادھر ہند مہا ساگر کی طرف نہ آ کر کے وہ اٹلانٹک کو پار کرتا چلا گیا اور وہ پہنچ گیا امریکہ وہ کہاں پہنچ گیا؟ امریکہ اس پرکار سے کولمبس جو ہے اسپین سے نکلا اور بھارت کی خوز کے لئے نکلا لیکن وہاں امریکہ پہنچ گیا اس پرکار سے امریکہ جو مہادیوک تھا وہ سنگیان میں آگیا ایوروب کے اور آگے چاہ کر کے انہوں نے امریکہ پہ بھی

[34:17] یوروپ واسیو نے کبزہ کر لیا وہاں بھی جیسے بھارت میں کیا تھا وہ ایسے امریکہ میں بھی کیا اور اس کو بھی آپ بھی سوٹحاس میں پڑھتے ہیں کس پرکار سے امریکہ میں بھی بعد میں کرانتی ہوئی اور امریکہ نے بھی ستنترتا پرابت کی اس کو آپ بھی سوٹحاس میں پڑھتے ہیں اب ہم بات کرتے ہیں کہ بھارت کیسے آیا کون آیا تو ایک بے کتھا پرتگال کا ایک جو ہے یہاں پہ میں لکھوں گا پرتگال پرتگال کا جو پرنس تھا پرنس ہنری پرنس ہنری پرنس ہنری کو کہا جاتا تھا دا نیوی گیٹر اسے کیا کہتے تھے دا نیوی گیٹر نیوی گیٹر کا مطلب ہوتا ہے جو پتھ پردرسک ہوتا ہے سمدری مارگوں میں نیوگیٹ کرنا ہے یعنی نوکائن میں یہ جو ہے پتھ پردر سکتا ایسا اس لئے کہا جاتا تھا کیوں کہ اس نے جو ہے اپنے سنرچن میں انیک ابھیان افریقہ کے تٹ پہ کرائے تھے یہاں اس نے افریقہ کے تٹ میں انیک ابھیان بھیجے اور جس کے دوارہ اس نے افریقہ مہادیوب کے پسمی تٹ کا ایک مائب تیار کروایا۔ اس نے کیا کیا؟ افریقہ مہادیوب کا مائب۔

[35:41] جو افریقہ مہادیوب ہے یہ پرسناب سے الگ سے پوچھا جا سکتا ہے افریقہ مہادیوب کے پسچمی تٹکا پسمی یعنی اٹلانٹک مہا ساغر کی طرف والے پسمی تٹھ کا ایک نقصہ تیار کروایا۔ نقصہ تیار کروایا تھا کس نے؟ پرنس ہنری نے تو پرنس ہنری کا پوچھا جاتا ہے نام پرنس ہنری کو کیا کہا جاتا تھا پرنس ہنری کہاں کا پرنس تھا پرنس ہنری پورتگال کا تھا اور اس کو کہا جاتا تھا د نیوی گیٹر کیونکہ یہ سمدری یاتراؤں میں بہت رچی لیتا تھا اور اس کے ساہن سے ہی اس کے سرچھن میں ہی اس کے فائننس سے ہی انیک یاتری جو ہے افریقہ کے تٹوں کے کنارے کنارے گئے اور پھر وہ دھیرے پہلے کچھ دور تک گئے پھر اس کے سہارے پھر اگلا دوسری دور تک گیا اور اس طرح انیک ابھیانوں میں اس نے افریقہ مہادیوب کے پسیمی تٹ کا ایک میپ تیار کیا

[36:47] بارتھو لیومو ڈیاز ایک یاتری کا نام آپ اور یاد کریں گے یا پوائنٹ وائس آپ لکھتے رہیے گا جو میں بتا رہا ہوں اس کو پورا سمجھنے کی کوشش کریے ابھی بھارت میں جیدہ ترہب جب بھارت میں یوروپی کمپنیوں کا آگمن پڑھتے ہیں تو سیدھی آپ پڑھتے ہیں بریٹس کبائے تھے دچ کبائے تھے پرتگالی کبائے تھے انہوں نے اپنی فیکٹری کہاں لگائی؟ لیکن اب پرسنوں کا پردرس چینج ہو گیا ہے اگر آپ کو پوری سمجھ نہیں ہوگی تو پرسن اب اس طرح سے آتے ہیں کہ آخر کیوں آئے وہ کارن آپ سے پوچھتا ہے اور جب ریٹن اگزام میں آپ جاتے ہیں تو وہاں پہ یہ پرسند نہیں آئے گا کہ انگریج بھارت کیوں آئے سیدھے پرسن آئے گا کہ وہ کارن کیا تھے جن کی وجہ سے انگریج بھارت میں اپنا پرابوت اسطح پت کرنے میں سفل رہے۔ تو اب یہ تو کوئی ایک فیکٹ تو ہے نہیں کہ آپ نے بتا دیا کہ بس کو ڈگا مانے خوز کر لی تھی اس لئے انگریز آئے اور سفل ہو گئے ایسا کچھ نہیں ہے نا تو آپ کو سب سمجھ ہونی چاہیے کیونکہ پرسند کس پرکار سے پوچھا جائے گا اگر آپ سے ایک theme based پرسند پوچھ دیا جائے

[37:48] کہ یوروپ کی سمدری کھوزوں کہ یاتراؤں کے سندرح میں ایک ٹپڑی لکھئے کہ یوروپ نے جو سمدری خوزوں کے لئے اپنے ابھیان بھیجے ایسیا میں یا کہیں بھی ان پر ایک سو سبد میں کسٹن لکھنے کو آ جائے تو آپ کیا کریں گے پھر آپ چھوڑ دیں گے اسے تو اس طرح سے آپ کو پورا ایک کانسپٹ بنا کے چلنا پڑے گا پوری اسٹوری آپ کے دماغ میں ہونی چاہیے تو اس میں ایک بیک تکا میں بتا رہا تھا نام اور آتا ہے بارتھو لیومو ڈیاج بار تو بارتھو لیومو ڈیاز اس بکت کا نام کس سندر میں آتا ہے؟ اس بکت کا نام آتا ہے بارتھو لیومو ڈیاز کا نام کہ یہاں جو ہے افریقہ کے تٹ پر سب سے زیادہ دور تک پہنچا تھا جو یہ پرتگال سے ابھیان چلائے جا رہے تھے یہاں تٹ کا نقصہ بنایا جا رہا تھا تو اس میں جو ہے افریقہ کے نیچے یہاں پر ساؤتھ افریقہ دیس میں ایک کیپ ہے جس کو کہتے ہیں کیپ آف ورطمان اس کا نام ہے

[38:56] کیپ آف گوڈ ہوپ کیپ آف گڑ ہوپ اس کا نام رکھا گیا تھا تو کیپ آف گڑ ہوپ تک پہنچنے والا یاتری تھا بارتھو لیمو دیاج یہ جا کر کے یہاں تک پہنچا اس کے آگے ہند مہا ساغر تک پار کرنے کی چھمتہ ابھی تک کسی کے پاس نہیں تھی میکسمن دوری تک بارتھولی موڈیاز آیا اور یہاں سے وہ واپس پہنچا چلا گیا لیکن اس کا پرنام یہ ہوا کہ پرتگال کے پاس میں یوروپ کے کسی بھی دیش کی اپیچھا پرتگال کے پاس میں اس مہا ساغر اٹلانٹک مہا ساغر اور افریقہ کے بسے میں ادھتم جانکاری تھی اگر اسپین کے پاس اتنی جانکاری ہوتی تو کولمبس پہلے پہنچ گیا ہوتا لیکن کو لمباس پہلے نکلہ باسکو ڈگاما سے پہلے نکلا تھا اسپین سے کولمبس لیکن کولمبس نہیں پہنچ پایا کیونکہ اس کے پاس جانکاری کا ابھاو تھا لیکن पुर्तगाल ने रड़नीत के तहट काम किया और उसने धीरे धीरे इस छेतर को जाना, समझा और केप आफ गुड होप तक उसकी पहुंच बन गई

[40:09] उसके बाद में जो है 1497 में सभी डेट आप याद करने की कोशिस ना करें लेकिन जब आप इस कहानी को पढ़ेंगे तो धीरे धीरे आपको याद हो जाएंगी 1403 में ये घटना हुई थी देखिए 1403 में कुस्तित तुनिया वाली घटना हुई जब कुस्तित तुनिया पे उसमानी नियंतरण हो गया 1497 में यहां पुर्टगाल से वासको डिगामा निकलता है बार्टो लिपो डियाज को नोट कलिए आपने वासको डिगामा यहां यह निकलने की डेट है पहुंचने की डेट नहीं है वासको डिगामा 1497 में पुर्टगाल से चार जहाज ले करके निकलता है और उसी Cape of Good Hope तक वो उसी मैप के सहारे आता है जो मैप प्रिंस हिनरी ने बनवाया था वहां तक वो पहुंचता है Cape of Good Hope तक और इसको मिसंद दिया गया था कि आपको अब हिंद महासागर पार करना है यानि वह एक छेतर जहान अभी तक किसी भी यूरोपी देशने किसी भी यूरोपी देशने जहाजों ने प्रवेस नहीं किया था हजारों मीलों का एक अंधकार में छेतर जहान की जरा सीवी जानकारी नहीं है अपनी जान जोखिम मेंडाल करके वास्कोडिगामा को अब ये म

[41:46] अपमे साचार जहाजों का बेड़ा और देड़ सो से अधिक लोगों के साथ में ये निकल पड़ा था और Cape of Good Hope के बाद में इसे कहा जाता है ऐसा मिलता है इतिहास में एक पथप्रदर्सक मिल गया यहाँ पर अफरीका में इसे एक पत्ध प्रदर्सक मिल गया. इसे पत्ध प्रदर्सक इसले कहा गया क्योंकि हिंद महासागर की जानकारी अरब के लोगों को थी. अरब के लोग हिंद महासागर से भारत तक पहुंशते थे.

[42:55] अगर इस तरह से आपको कोई कह देता है कि हाँ अगर ये चेतर अगर आप पार करोगे तो आगे ए हिंदुस्तान है तो आपका मनोबल बढ़ जाएगा कि जब मैं अटलांटिक महासागर पार करके आ गया हुँ तो मैं हिंद महासागर को भी पार कर जाओंगा तो यहां से जो है इस पत्परदर्सक के बताय हुए तरीके से वास्कोडिगामा का दल जो है हिंद महासागर को पार कर गया और भारत के पस्चमी तट पे वास्कोडिगामा 1498 में पहुँच गया यहां पर यह तट कहलाता है माला बार तट यह जो तट है केरल वाला इसे कहते हैं माला बार माला बार तट इसका नाम आप याद रखेंगे जो भारत का पस्चमी तट है जहां पर केरल करनाटक वगरा ये है माला बार तठ और जो पूरब का तठ है इसे कहते हैं कॉरो मंडल तठ जो तमिलनाडू की तरफ तठ है इसे कहते हैं कोरो मंडल तट और जो केरल की तरफ तट है इसे कहते हैं माला बार तट तो वासकोडिगामा जो है वो पहुचा कोरो माला बार तट पे पहुचा और वहां पर जिस अस्थान पे पहुंचा उस अस्थान

[44:41] को कहते हैं जो keral में पड़ता है उसे कहते हैं वरतमा समय में उसे कोजी कोड कहा जाता है लेकिन उस समय उसे कहा जाता था काली कट

[45:11] चाहिए 1498 में 10 महीने इसको लगे 1498 में ये पहुंचता है काली कट केरल तो इब वास्कोड गामा 1497 में निकलता है केप आफ गुड होप होते हुए अब्दुल मनीक नाम के एक पथ प्रदर्शक के सहयोग से हिंद महासागर को पार करके वह काली कट नाम के बंदरगाह पे प जो है जमोरिन ये बी नोट अक ने आप ये भी पूछा जा सकता है जमोरिन नाम का एक सासक था जिसने इसका स्वागत किया यानि अपने राज में इसका भव्वे स्वागत किया कि आप यूरोप के सासको के द्वारा भेजे गए एक भ्यापारी हैं तो इस प्रकार से वास्कोडिगामा ने उरोप से भारत को जोड़ दिया, इस प्रकार से भारत और उरोप जोड़ गये समुद्री मारक से और आप दूसरे सब्दों में कह सकते हैं कि यहीं से यूरोप और भारत भिढ गएंगें, यहीं से यूरोप और भारत के बीच में जुडाओ भी शुरू हो गया और यही वो खटना थी जहां से भारत और एरोप के बीच में एक भिढ़नत भी इस्टार्ट हो गई

[46:29] और आगे चल करके यूरोप ने भारत पे किस प्रकार से अपना ब्यापारिक और उसके बाद राजनेतिक प्रभुत्ति स्थापित कर लिया यह आगे चल करके यही हमें पढ़ना है और यही हमारे भारत का मौडन हिस्ट्री में जो कुछ हम पढ़ेंगे उसका जो मूल है उसक 2-3 महिने 3 महिने थक वास्को डिगामा भारत में रुकता है और यहां से अनेक मसाले जड़ी बोटियां यह सब ले करके जाता है पूछा जाता है इसलिए मैं आपको बता रहा हूँ अनेक मसाले जड़ी बोटियां और भारती वस्तुयें

[47:36] کتنا ساٹھ گناہ پروفٹ کا پرسنتج جو ہے سارا خرچہ نکال کر کے اس کو ساٹھ گناہ منافع ہوتا ہے ان سب چیزوں نے یوروپ واسیوں کے دلوں میں ایک حلچل مچا دی کہ اتنا منافع ہے اور بھارت اس طرح سے بیعبار بھارت سے سمدری مارگ کے دوارہ کیا جا سکتا ہے سمبھو ہے تو 1490 کے بعد میں 1500 میں ایک پھر ابھیان آتا ہے پرتگال کا پیڈرو البریج یہ بھی نام آپ نوٹ کریں پیڈرو البریج پیڈرو البریج آتا ہے اس کے بعد واسکوڈگاما دوبارہ آتا ہے پندرہ سو دو میں پندرہ سو دو میں واسکوڈگاما دوبارہ آتا ہے اور واسکوڈگاما کو اس بار جب بھیجا گیا تو اس ادیس سے بھیجا گیا تھا کہ اب ہمیں بھارت پہ سمدری چھتر میں پورا قبضہ کرنا ہے پورتگالیوں کا پورا ایک دیس تھا کہ ہند مہا ساغر پہ عرب کا جو قبضہ ہے اسے ہمیں ہٹانا ہے اور ہند مہا ساغر پہ ہمیں پورا قبضہ کرنا ہے

[48:53] تو اپنے دوسرے ابھیان میں واسکو ڈگاما اپنے ساتھ یدھ کے لیے توپے بھی لے کر کے آیا تھا اور اس نے یہاں پر کے پاپ گوڈ ہوپ اور یہاں جو ہے بھارتی چھتر میں سمدر میں عرب کے جہاجوں پر حملہ بھی کیا کیونکہ یہاں کے جہاجوں پر اتنے ہتھیار نہیں ہوا کرتے تھے اور اپنے اس دم سے اپنے ان ہتھیاروں کے بل سے اس نے یہاں کے چھتر کے جو بیعپاری ہیں ان کو ڈڑا کر کے اپنا پربھت استحابت کر لیا تھا اور یہیں سے جو ہے پرتگالیوں کا ایک پربھت میں شٹارٹنگ ہو جاتی ہے اور آگے ہم اتحاس میں دیکھتے ہیں کہ دیڑھ سو سالوں تک انہوں نے ہند مہا ساغر پہ اپنا ایک چھتر راج بنائے رکھا اور تب تک یہ وہاں ڈٹے رہے جب تک کی برٹس یعنی انگلین یا یونائٹیڈ کنگڈم یا برٹین نے برٹین نے ان کو یہاں سے خدیڑ نہیں دیا لیکن دیڑ سو سالوں تک یہ ٹکے رہے اور اس اتحاس کو ہم آگے پڑھیں گے کس پرکار سے ان کی آپس میں

[49:53] لڑائیاں ہوئی اور کس پرکار سے انیک کمپنیاں بھارت میں آئی انیک کمپنیاں پرتگالیوں کے بعد میں سو سالوں تک تو کوئی نہیں آیا اکیلے ایک چھتر پرتگالی بیعپار کرتے رہے لیکن اس کے بعد لگ بھگ سو سالوں کے بعد میں دوسرے اندیسوں کی کمپنیاں بھی اسی مارگ سے ہو کر کے بھارت میں پرویس کی اور انہوں نے جو ہے بھارت کو پوری طریقے سے بیعپارک راجنیتک اور دھارمک سبھی ادیسوں کے ساتھ میں سبھی چھتروں میں بھارت کی سنسکرتی کو پربھاویت کیا

[50:54] اپنا ایک چھتر ساسن بھارت میں اس تھاپت کر لیا یہاں سب کیسے گھٹت ہوا یہی ہمارا سلیبس ہے کس پرکار سے ایک بیع پار کی گھٹنا نے ایک دیش کو گھٹت ہوا گلام بنا لیا یہ ہم پڑھیں گے پورے اتحاس میں تو آج کی کلاس ایک انٹروڈکسن کلاس تھی جس میں ہم نے آپ کو ایک بھومکہ دکھائی کہ ہماری کلاسز کس طرح سے ہوں گے ہم فیکٹ اور کانسپٹ کو پورا لے کر کے چلیں گے اگلی کلاس میں ہم پڑھیں گے کہ کس پرکار سے کون کون سی یوروپی کمپنیاں بھارت میں آئیں جس میں ہم پورتگال سے ہی سٹارٹ کریں گے پورتگال کو کس پرکار پورا ڈیٹیل میں ہم پڑھیں گے پورتگالی کمپنی کیسے آئی انہوں نے کیا کیا کہاں کہاں کو کھوٹھیاں بنائی کون کون سے بیع پار کیے اور بھارت کو کیا کیا انہوں نے دیا کیا کیا پرابہو ڈالا اور پھر کس پرکار سے انہی کمپنیوں سے یہ پچھڑ گئے اور ان کو واپس جانا پڑا تو ہم پرتگال کو پڑھیں گے دچ کو پڑھیں گے اور سب سے جو بسیسٹ ہے اسٹ انڈیا کمپنی بٹین آج کی کلاس میں اتنا ہی ملتے ہیں ہیسٹری کی اگلی کلاس میں تب تک کیلئے دھنیواد

[52:01] شکریہ
